اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مراد سعید نے کہا ہے کہ عوام نے پی ڈی ایم کی سیاست کو مسترد کر دیا، فضل الرحمان نے اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں بنائیں، فرنٹ مین کے ذریعے کمپنیاں بنا کر حج کے بڑے کوٹے حاصل کئے، دبئی اور قطر میں بھی اثاثے سامنے لائے جائیں گے۔وفاقی وزیر مراد سعید نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ناموس رسالت کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھایا، 54 سال میں پہلی بار یو این اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر بات ہوئی، نواز شریف کے دور میں جے یو آئی کا رہنما اسرائیل جانے کا اعتراف کرتا ہے، فضل الرحمان ہمیشہ اسرائیل اور یہودی لابی کی بات کرتے ہیں،
مولانا امریکی سفیر سے خود کو وزیراعظم بنانے کی درخواست کرتے ہیں، نیٹو سپلائی کے دھندے میں بھی فضل الرحمان ملوث رہے۔مراد سعید کا کہنا تھا کہ مولانا کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے لیکن مسئلے کو اجاگر نہیں کیا، انہوں نے اسلام کا نام استعمال کر کے مسلمانوں کو ٹھیس پہنچائی، گزشتہ ہفتے میں فضل الرحمان کی جائیداد کی تفصیلات سامنے آئیں، نیب نے جائیدادوں کے حوالے سے نوٹس کیے، سوالنامے بھی بھیجے، پی ڈی ایم کے جلسوں میں مدرسے کے بچوں کو بلایا جا رہا ہے۔دوسری جانب لورالائی میں پی ڈی ایم کے جلسے سے فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جنگ پاکستان میں جمہوری فضاؤں کی بحالی کیلئے ہے، ہم نے فیصلہ کن جنگ لڑنی ہے، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور قوم ایک پلیٹ فارم پر ہے، یہ موجیں مارتا سمندر کوئی مقاصد، کوئی نظریہ رکھتا ہے، آج فیصلہ کن وقت آگیا، عمران خان کو جانا ہی ہوگا۔فضل الرحمان کا کہنا تھا کہا گیا مودی کامیاب ہو جائے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا، مودی کامیاب ہوگیا، مسئلہ حل ہوگیا، اس نے کشمیر پر قبضہ کرلیا، ہم نے پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دینا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں میں خود اعتمادی نام کی چیز نہیں، آج ہماری مدد کرنیوالا کوئی نہیں، پڑوسی ملک ہمارا ساتھ نہیں دے رہا، افغانستان ہمارا ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں، چین پاکستان سے ناراض ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کی معیشت ترقی کر رہی، ایران کی معیشت ہم سے طاقتور ہے، پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جس کی معیشت ڈوب رہی ہے، ملکی معیشت کا
کباڑا کر دیا، خدا جانے کیسے ٹھیک ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس میں بھارت، یورپ، اسرائیل سے پیسہ آیا، یہ پیسے کہاں سے آئے، الیکشن کمیشن حساب تو لے، آج تمہاری پارٹی کا بانی رکن الیکشن کمیشن میں جا جا کر تھک گیا۔فضل الرحمان نے کہا کہ 18 ویں ترمیم میں صوبوں کو حقوق دیئے گئے ہیں، ہم دوبارہ صوبوں کا حق مرکز کو دینے کو تیار نہیں، آئین کہتا ہے صوبے کے حصے میں اضافہ ہوسکتا ہے، کمی نہیں، ہماری جنگ پارلیمنٹ کی خود مختاری اور قانون کی عملداری کیلئے ہے۔









