لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو ایک اور مقدمے میں بردی کردیا گیا

کراچی(نیوز ڈیسک )لیکراچی کی عدالت نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کو تین مقدمات سے بری کر دیا۔عدالت نے قرار دیاکہ استغاثہ عذیر بلوچ کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی، عزیر بلوچ پر پولیس مقابلہ، اقدام قتل، ہنگامہ کے تین مقدمات تھے۔ شریک ملزمان ان مقدمات میں پہلے ہی بری ہوچکے ہیں۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جوڈیشل کمپلیکس کی عدالت نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کے تین مقدمات کا فیصلہ سنایا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ بناء شواہد کے ملزم کو سزا نہیں دے سکتی، پراسیکیوشن ملزم کے خلاف گواہ پیش کرنے میں

ناکام رہی ہے، ملزم کسی اور کیس میں نامزد نہ ہو تو جیل سے رہا کیا جائے۔خیال رہے کہ یکم اپریل 2012 کو تھانہ کلاکوٹ میں پولیس مقابلہ، اقدام قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عذیر بلوچ پر 50 سے زائد مقدمات مختلف تھانوں میں درج ہیں۔یاد رہے کہ چار سال قبل سال قبل 30 جنوری 2016ء کو رینجرز نے کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے لیاری گینگ وارکے سرغنہ عزیربلوچ کو گرفتار کر لیا تھا۔ ترجمان رینجرز نے بتایا تھا کہ لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کو کراچی میں داخل ہوتے ہوئے مضافاتی علاقہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں