اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے کبھی فوج کے ذریعہ حکومت کا تختہ الٹنے کی بات نہیں کی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیراعظم کے دعوے کا جواب دیدیا ہے، پی ڈی ایم جلسوں میں ہمیشہ پاک فوج کی تعریف کی ہےیہ ضرور کہا جاتا ہے 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کا کون ذمہ دار ہے، ملک کی ترقی مقصو د ہے تو فوج کو سیاست سے دور رہنا پڑے گا، آج بھی استعفے نہ دینے کیلئے ہمارے ارکان سے رابطے کیے جارہے ہیںکورونا ایس او پیز کی وجہ سے لندن میں نواز شریف سے ملاقات ممکن نہیں ہے ،جو آدمی شہداء کے لواحقین کو
بلیک میلر کہے اس کی ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔پروگرام میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمربھی شریک تھے۔اسد عمر نے کہا کہ احتیاط کی جائے یہ نہ سمجھیں کورونا کا معاملہ ختم ہوگیا ہے ،پہلے مرحلہ میں ویکسین کی گیارہ لاکھ ڈوز کا آرڈر دیا گیا ہے، پہلا ہدف ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ویکسین دینا ہے، قومی قیادت کورونا پر ایک پیغام دے باقی جتنی مرضی حکومت پر تنقید کرے ، 2021ء کا سال معاشی اعتبار سے 2020ء سے بہت بہتر ثابت ہوگا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپوزیشن نے کبھی فوج کے ذریعہ حکومت کا تختہ الٹنے کی بات نہیں کی، ہم سب کچھ آئین اور جمہوری اقدار کے مطابق کرنے کی بات کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیراعظم کے دعوے کا جواب دیدیا ہےعمران خان یہ انٹرویو دیکھ لیں تو بہتر ہوگا، ملک کے وزیراعظم کو ایسی مضحکہ خیز باتیں نہیں کرنی چاہئیں، عمران خان پچھلے ڈھائی سال سے عجیب باتیں کررہے ہیں آج انہیں جواب مل گیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے فوج پر کبھی تنقید نہیں کی ہے، پی ڈی ایم کے جلسوں میں نواز شریف اور دیگر لیڈر کی تقاریر عوام کو دکھائیں، پی ڈی ایم جلسوں میں ہمیشہ پاک فوج کی تعریف کی ہےیہ ضرور کہا جاتا ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کا کون ذمہ دار ہے، فوج نے کہہ دیا ہے اس کا ملکی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اللہ کرے ایسا ہی ہو، ماضی کے تجربات نہیں بتاتے کہ فوج سیاست سے دور رہی ہے،
ملک کی ترقی مقصو د ہے تو فوج کو سیاست سے دور رہنا پڑے گا، آج بھی استعفے نہ دینے کیلئے ہمارے ارکان سے رابطے کیے جارہے ہیںکل رات مجھے تین ایم این ایز کا فون آیا کہ انہیں استعفے دینے سے منع کیا گیا ہے، ایسی باتیں نہ سیاست نہ ملکی معاملات حل کرنے کیلئے بہتر ہیں، عسکری قیادت عملاً فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو سیاست سے دور کرے، فوج آئین کے مطابق اپنے کام تک محدود رہے تب ہی ملک ترقی کرے گا۔









