فوج مخالف بیان پر کوئی ردعمل کیوں نہیں دیا گیا، ترجمان پاک فوج سے سوال

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)آج آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی انتہائی اہم پریس کانفرنس کی جس میں ان سے سوال کیا گیا کہ کچھ عرصہ سے کچھ جماعتوں کی جانب سے فوج مخالف بیان دئیے جا رہے ہیں، اب تک پاک فوج نے اس پر کوئی ردعمل کیوں نہیں دیا گیا ؟ اور کیا ان الزمات پر پاک فوج کے اندر اور شہدا کے خاندانوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے ؟ جس کا جواب دیتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اگر آپ تنقید کی بات کر رہے ہیں ، یا جو الزامات لگائے جاتےہیں تو ان میں کوئی حقیقت نہیں، الحمد اللہ فوج اپنا کام کر رہی ہے،فوج اپنی قربانیاں دے رہی ہے۔

اگر آپ یہ سوال پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ہم ان الزامات پر جواب کیوں نہیں دے رہے تو ایسا کوئی الزام نہیں جو حقیقت پر مبنی ہے۔ہمشہ اس بات پر جواب دیا جاتا ہے جس میں کوئی حقیقت ہو۔ہم ان چیزوں میں ملوث نہیں ہونا چاہتے اور نہ ہی ہوں گے۔فوج کا جو کام ہے وہ اپنا کام کرتی رہے گی۔کوئی پریشانی کی بات نہیں، ہماری پوری فوج اور شہیدا کی فیملی کا مورال بلند ہے۔پیر کو ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ10سال چیلنجزسےبھرپورتھے،رياست اورقوم نےمتحدہوکرحالات کامقابلہ کيا اور آپریشن رد الفساد میں دہشت گردوں کا بڑی تعداد میں صفایا کیا گیا جس سے گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی اور گزشتہ سال 50 فیصد سے زائد دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بنایا۔میجرجنرل بابرافتخار نے کراچی سے متعلق بتایا کہ سال 2014 میں شہر کرائم انڈیکس میں چھٹے نمبر پر تھا تاہم 2020 میں کراچی دنیا میں کرائم انڈیکس میں 103 پر آچکا ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ کراچی میں دہشت گردی میں 95 فیصد، ٹارگٹ کلنگ میں 98 فیصد،بھتہ خوری میں 99 فیصد اور اغوا برائے تاوان میں 98 فیصد کمی آئی ہے۔بلوچستان سے متعلق میجرجنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ سی پیک کیلئے سیکیورٹی ڈویژن بنائی گئی ہے،ایف سی کو نارتھ اور ساؤتھ میں تقسیم کیا گیا ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس ہفتے کوئٹہ جائیں گے،بلوچستان میں پاکستان کا مستقبل ہے اور صوبے میں 199 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہےجن میں صحت اور تعلیم

کے منصوبے بھی شامل ہیں۔مغربی سرحد سے متعلق میجرجنرل بابرافتخار کا کہنا تھا کہ بارڈرٹرمنل،اسکینرز ،بائیو میٹرک سسٹمز،بارڈر پوسٹس اور باڑلگا کر امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری لائی گئی ہے۔ 2611 کلومیٹر پاک افغان سرحد پر 83 فیصد سے زائد کام مکمل کرلیا گیا ہےاور سال کے وسط تک مکمل ہوجائے گا۔ترجمان نے واضح کردیا کہ پاک افغان سرحد پر سرحد پاک فوج نے اپنے خون اور پسینے سے لگائی ہے اور کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ اس بارڈر کواکھاڑسکے۔اس کے علاوہ ،پاکستان ایران سرحد پر37 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں