اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے لواحقین کے مطالبات کو غیر آئینی قرار دے دیا۔انہوں نے اسلام آباد میں ٹیکنالوجی پارک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہزارہ برادری کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ آج تدفین کریں آج کوئٹہ پہنچ جاؤں گا۔انہوں نے کہا کہ تدفین کے لیے وزیراعظم کی آمد کی شرط رکھنا مناسب نہیں، سانحہ مچھ کے متاثرین کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں۔ہزارہ براداری کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں گے تو لاشوں کی تدفین کی جائے گی لیکن کسی بھی ملک کے وزیراعظم کو اس طرح سے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم عمران خان کو اس بیان کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔سوشل میڈیا پر صارفین نے اس بیان پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو عمران خان کوئٹہ نہیں جا رہے اور پھر اس طرح کے بیانات دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ہزارہ برادری کے افراد کے دردناک قتل کے معاملے کو کتنا سنجیدہ لے رہے ہیں۔اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر #کچھ_تو_شرم_کھاؤ_عمران_خان کا ٹرینڈ بنا دیا گیا جس کو استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان پر خوب تنقید کی جا رہی ہے۔ ایک صارف نے سانحے میں 18 سالہ بیٹے کو کھو دینے والے باپ کی تصویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے مطابق یہ 70 سال کا بوڑھا باپ جس نے اپنے 18 سال کے بیٹے کو کھو دیا وہ انہیں بلیک میل کررہا ہے۔یہ آدمی اس بیٹے کے لئے انصاف مانگ رہا ہے جس کی پشت کے پیچھے بندھے ہوئے ہاتھوں پر پٹی باندھ کر اسے ذبح کیا گیا تھا وہ اسے بلیک میل کررہا ہے۔ایک صارف نے کہا عمران خان نے ثابت کر دیا کہ وہ اب تک کے سب سے بے حس وزیراعظم ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم کے لیے ان کی انا ان لوگوں سے زیادہ اہم ہے جنہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ایک صارف نے کہا کہ وزیراعظم صاحب! آپ کو شرم آنی چاہئیے۔ایک صاررف نے کہا کہ اب سوگوار بلیک میلرز بن گئے ہیں۔۔اس کے علاوہ بھی کئی سوشل میڈیا صارفین نے وزیراعظم پر تنقید کی اور ان سے کوئٹہ جا کر مظاہرین کے آنسو صاف کرنے کا مطالبہ کیا۔









