اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نومبر ، دسمبر میں ہماری برآمدات کے مقابلے میں بھارت اور بنگلہ دیش کی برآمدات منفی رہیں۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے ایک پیغام میں وزیراعطم نے بتایا کہ علاقائی برآمدات کے رجحان سے متعلق اعداد و شمار موصول ہوئے ہیں جن سے پتہ چلا ہے کہ 2020ء کے ماہ نومبر اور دسمبر میں بھارت اور بنگلہ دیش کی برآمدات منفی رہیں جب کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوا ، اس کامیابی پر وزارت تجارت اور برآمد کنندگان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم عمران خان کی طرف سے شیئر کیے گئے
اعدادوشمار کے مطابق سال 2020ء کے آخری دو مہینوں میں سے نومبر میں پاکستانی برآمدات میں 8.32 فیصد اضافہ ہوا جب کہ اسی عرصے میں بھارت کی برآمدات میں 9.07 فیصد کمی دیکھی گئی اسی طرح دسمبر کے مہینے میں پاکستان کی برآمدات میں 18.30 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا جب کہ اسی عرصے میں بھارت کی برآمدات 0.80 فیصد اور بنگلہ دیش کی برآمدات میں 6.11 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔واضح رہے کہ چند روز پہلے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ تمام معاشی اعشاریے مثبت سمت میں جا رہے ہیں ، مزید بہتری کیلئے ایس ایم ایز کا فروغ ضروری ہے ، کیوں کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار معیشت کا اہم جزو ہیں، ان کو فروغ دے کر معیشت مستحکم ہو گی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے ، تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نے ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے مقرر اہداف کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی جب کہ اس موقع پر شرکاء کو ایس ایم ایز کو مالی معاونت فراہم کرنے کیلئے تمام شراکت داروں سے مشاورت پر بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ایس ایم ایز کے فروغ کی خاطر قانونی اور ریگولیٹری مسائل کو حل کرنے کیلئے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ کاروباری طبقے کی سہولت کیلئے ٹیکس فارم کو آسان بنایا جا رہا ہے جب کہ رجسٹریشن پورٹل پر بھی کام جاری ہے ، صوبوں میں ورکنگ گروپس قائم ہو چکے ہیں جس کے تحت صوبوں میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو مدد دیں گے ، اس مقصد کیلئے ایس ایم ایز کا ڈیٹا بیس ترجیحی بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے جس کے بعد ڈیٹا بیس کی بنیاد پرحکومت ایس ایم ایز کو بروقت سہولت دے سکے گی۔









