اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیریوں کو پیغام دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر ہے، ہم کشمیریوں کی حق خودداریت کی تحریک کے حصہ ہیں، پاکستان کا ہر شہری آپ کی آواز بلند کرتا رہے گا، امید ہے نئے امریکی صدر جوبائیڈن اقتدار میں آکرکشمیریوں کیلئے آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا، اقوام متحدہ نے 5جنوری کوکشمیریوں سے وعدہ کیا تھا، کشمیری ہندوستان کے جبر کا مقابلہ کررہے ہیں، ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کو تاریخ کا سب سے زیادہ ملٹری زون بنا دیا ہے،
وہاں 9 لاکھ سے زیادہ فوج تعینات ہے، ہندوستان چاہتا ہے کہ اس جبر ، لاک ڈاؤن اور ملٹری سے کشمیریوں کے ارادوں کو توڑے، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا، کشمیر کو ہڑپ کرنا مودی سرکار کے منشور میں شامل تھا، مودی جب جاتی امراء آیا تب بھی یہ مودی کے منشور کا حصہ تھا، اپوزیشن کشمیر سے متعلق سیاسی دکان داری چمکا رہی ہے، میری رائے کشمیر جتنا آج ہندوستانی لیڈرشپ سے نالاں ہے، ماضی میں کبھی اتنا نہیں ہوا، اس کی وجہ ہندوستان میں بی جے پی اور آرایس ایس کی سوچ مسلط ہے، ہندوتوا کا فلسفہ رائج کررکھا ہے، وہ کشمیری قائدین جو ماضی میں مخلوط حکومتوں میں شامل ہوتے تھے وہ بھی دہلی سرکار سے منہ پھیر چکے ہیں، وہ اپنا اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں، کون نہیں جانتا کہ کشمیریوں کے ہندوستان کے ظلم کے سامنے حوصلے بلند ہیں، یہ اعزاز عمران خان کی حکومت کو جاتا ہے، اس مجاہد کو ہم نے پاکستان کا سب سے بڑا ایوارڈ ان کی خدمت میں پیش کیا، اس کو قبول کیا گیا ، آسیہ اندرابی نے قید میں صعوبتیں برداشت کیں، ہم نے جنیوا میں ان کے حق میں آواز بلند کی۔انہوں نے کہا کہ آج کشمیریوں کو پیغام جانا چاہیے، حق خودداریت کی تحریک کے حصہ دار ہیں، آپ پر پابندیاں ہیں، آپ اپنی آواز بلند نہیں کرسکتے لیکن پاکستان کا ہر شہری آپ کی آواز بلند کرتا رہے گا، مسئلہ کشمیر پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم انسانی حقوق کو کچلا جارہا ہے، ہم سے بے خبر نہیں ہے، امریکا میں ایک نئی حکومت آرہی ہے، میں اتفاق کرتا ہوں کہ امریکی صدر بائیڈن خارجہ پالیسی امور پر بڑا تجربہ رکھتے ہیں، نئے امریکی صدر بائیڈن مسئلہ کشمیر اور خطے کی صورتحال سے واقف ہیں، بائیڈن نے کشمیری کے حقو ق کے حق میں آواز بھی بلند کی ہم امید کرتے ہیں وہ اقتدار میں آکر بھی اسی مئوقف پر قائم رہیں گے۔









