اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیراعظم عمران خان کا سانحہ مچھ سے متعلق کہنا ہے کہ سانحہ مچھ میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، ظالم جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے کابینہ اجلاس کے دوران ہزارہ برادری سے مذاکرات پر بریفنگ دی گئی۔شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ مظاہرین کے 8 میں سے 7 مطالبات تسلیم کر رہے ہیں، بلوچستان اسمبلی کے استعفوں کا ہم سے تعلق نہیں۔اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سانحہ مچھ کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،
سانحہ مچھ میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، ظالم جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے۔وفاقی کابینہ نے کورونا ویکسین کی خریداری کیلئے پیپرا رولز سے استثنیٰ کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے پریس کونسل آف پاکستان کے ممبران کی تقرری کی بھی منظوری دی۔ 1997 میں اسٹیبلشمنٹ سے متعلق کابینہ کے فیصلہ پر نظرثانی کا معاملہ موخر کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق فش پراسیسنگ پلانٹس کی رجسٹریشن سے متعلق انسپکشن کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی گئی۔ نوشہرہ میں ریلوے اور وزارت دفاع کے درمیان کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر کا معاملہ اور کابینہ ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کے 17 دسمبر کے فیصلوں کی توثیق موخر کر دی گئی۔وفاقی کابینہ نے پاکستان ایکسپو سنٹرز کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری دے دی جبکہ کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 31 دسمبر کے فیصلوں کی توثیق کر دی گئی۔وزیراعظم عمران خان کا اسامہ ستی کے معاملے سے متعلق کہنا تھا کہ ایسے بے رحم لوگ پولیس میں نہیں ہونے چاہئیں، پولیس میں اصلاحات لائیں گے اور اسامہ ستی واقعے پر انصاف ہوگا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران مزید عالمی وبا کورونا وائرس ویکسین سے متعلق بھی بات کی گئی، وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کورونا ویکسین کے حصول کے لیے ڈیوٹی چھوٹ کی منظوری دی گئی۔وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس کے دوران پریس کونسل آف پاکستان کے ارکان کی ازسر نو تقرری کی بھی منظوری بھی دی گئی۔کابینہ اجلاس کے دوران مزید پاکستان ایکسپو سینٹرز کے چیئرمین، بورڈ آف ڈائریکٹر، فش پراسیسنگ پلانٹس کی رجسٹریشن سے متعلق انسپکشن کمیٹی کی منظوری بھی دی گئی۔









