اسامہ والدہ کا سب سے لاڈلہ تھا، وہ چلا گیا کبھی واپس نہیں آئے گا ،اسامہ کی بہن کی گفتگو

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد میں 22 سالہ نوجوان اسامہ ستی پولیس گردی کا شکار ہو گیا،اسامہ کی اچانک موت سے ان کا گھر گہرے غم سے نڈھال ہیں،اہلخانہ تاحال یقین نہیں کر رپا رہے کہ اسامہ اب اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔اسامہ ستی کے والدین بھی صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ان کے اہلخانہ اور دوستوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔اسامہ ستی کی بہن کا کہنا ہے کہ ہمیں تھانے سے کال آئی تھی کہ اسامہ کو گولی لگی ہیں،والد گھر میں بتائے بغیر باہر گئے۔بعدازاں ہمیں بتایا کہ اسامہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ہمیں کہا گیا کہ اسامہ نے ڈکیتی کی ہے لیکن ہمیں پتہ تھا کہ اسامہ ڈکیتی نہیں کر سکتا۔ہمیں بھائی کی لاش بھی نہیں دی جا رہی تھی، پھر ایسی خبریں چلنا شروع ہو گئیں کہ اسامہ دہشتگرد تھا،

ابھی ہم ان کی لاش ملنے کا انتظار کر رہے تھے کہ ان پر الزامات لگنا شروع ہو گئے۔اسامہ ستی کی بہن نے مزید بتایا کہ بھائی کی موت کے بعد والدہ کو سنبھالنا بہت مشکل تھا۔وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ مجھے میرا بیٹا واپس لا دو۔اسامہ والدہ کا سب سے لاڈلا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بھائی نے بتایا تھا کہ پولیس والوں نے اسے روکا تھا اور کہا تھا کہ وہ مجھے چھوڑیں گے نہیں۔یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی جس پر ایکشن لیا جاتا،والد نے بھائی کو کہا کہ تم اپنے پاس کاغذات پورے رکھا کرو۔ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ جس طرح بھائی کو مارا گیا اس طرح ان لوگوں کو بھی مارا جائے تاکہ ان کے گھر والوں کو پتہ لگے کہ ہم پر کیا گزر رہی ہے۔ہمارا اسامہ اب واپس نہیں آئے گا لیکن ہمیں انصاف نہیں چاہئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں