پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمن میں سے ایک کے انتخاب پر پی ڈی ایم اتحاد ٹوٹ سکتا ہے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پی ڈی ایم کا اتحاد خطرے میں پڑ گیا ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ الیکشن لڑنے کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے لیے نیا امتحان شروع ہو گیا ہے کہ کیا ن لیگ پیپلز پارٹی کے موقف کو اپناتے ہوئے احتجاجی تحریک کے ساتھ سینیٹ کا الیکشن مل کر لڑے گی یا مولانا فضل الرحمن کا موقف اپناتے ہوئے سینیٹ الیکشن سے قبل اسمبلیوں سے استعفے دے گی۔غلط فیصلے سے اتحاد بھی ٹوٹ سکا ہے۔ن لیگ کے رہنماؤں نے مشاورت شروع کر دی۔آج پی ڈی ایم کا ہونے والا اجلاس اس حوالے سے اہمیت کا حامل ہو گیا ہے جس میں استعفوں اور سینیٹ ،

ضمنی الیکشن کے حوالے سے فیصلے ہوں گے،پی پی رہنماؤں کے مطابق سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں ارکان نے اسمبلیوں سے استعفے دینے کی تجویز کو مانا ہے لیکن یہ آخری آپشن ہے اور وہ سینیٹ کا الیکشن لڑنے کے حامی ہیں تاکہ تحریک انصاف کو سینیٹ میں دو تہائی اکثریت نہ مل سکے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے بعض رہنماؤں پپیلز پارٹی کے موقف کی تائید کر رہے ہیں،مسلم لیگ ن کی میزبانی میں ہونے والا پی ڈی ایم اجلاس اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ ن لیگ، پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان دونوں کے ساتھ رکھنا چاہتی ہے۔کسی ایک کی حمایت کرنے سے اتحاد ٹوٹ بھی سکتا ہے۔پی پی پی ارکان اس فیصلے پر متفق ہیں کہ ارکان اسمبلی استعفے قیادت کو جمع کروا دیں لیکن پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن کو دینے پر متفق نہیں۔اس صورتحال کے پیش نظر توقع کی جا رہی ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے ساتھ ساتھ سینیٹ اور ضمنی الیکشن لڑے گی اور سینیٹ الیکشن کے بعد لانگ مارچ، دھرنے اور استعفے دینے کے آپشن کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کیے جانے کے امکانات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں