لاہو ر(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی ہارون الرشید کا کہنا کہ مولانا فضل الرحمن کسی بھی وقت اسٹیبشلمنٹ سے سودا کر سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح اپنی زندگی میں کہیں بھی دیر سے نہیں پہچنے۔وہ مکمل طور پر آزاد آدمی اور ڈسپلن میں سخت تھے۔لیڈر معاشرے کی تقسیم اور تعصبات سے بالاتر ہوتا ہے۔انہوں نے عمر بھر کسی سے مدد مانگی۔مولانا فضل الرحمن 27 سال کی عمر میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے۔39 برس انہوں نے اس پارٹی پر حکومت کی اور جو چاہا وہ کیا، اب اچانک مولانا شیرانی، نصیب گل ،
حادظ حسین اور شجاع الملک کو پارٹی سے نکال دیا۔ان چاروں کی ریپوٹیشن مولانا سے بہتر ہے۔مولانا کسی وقت بھی اسٹیبلشمنٹ سے سودا کر سکتے ہیں۔وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے رہے۔انہوں نے عورت کی حکمرانی کے خلاف فتوی دیا پھر بینظیر کے ساتھ حکومت میں شامل ہو گئے۔نواز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ بھی رہے۔انہوں نے ایک دفعہ جی ایچ کیو پیغام بھیجا تھا کہ میں پرچون نہیں تھوک کا سودا کرنا چاہتا ہوں۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ محمد علی درانی عرصے کوئی بڑا رول پلے نہیں کر رہے تھے ، وہ کہتے ہیں کہ میں سیاست کا نہیں ریاست کا آدمی ہوں۔پیر پگارا کو بھی انہوں نے قائل کیوں ہو گا۔یہ جو مصالحت کی کوشش کر رہے ہیں یہ کیسے ہو گی۔عمران خان کرپشن پر مصالحت کرے گا تو اس کی سیاست ختم ہو جائے گی۔صرف عمران خان کرپٹ نہیں، عمران خان کو پی ڈی ایم سے نہیں حلیفوں ایم کیو ایم اور ق لیگ سے خطرہ ہے۔شہباز شریف اور مریم کشمکس ہے۔میرا نہیں خیال شہباز شریف استعفیٰ دیں گے۔شہباز شریف نے جو پیسہ بنایا وہ 4سو ارب سے کم نہیں گا۔حمزہ شہباز شریف پیسہ بنایا، سلمان نے تو کمال ہی کر دیا۔









