چار ماہ سے دھمکیاں دی جارہی تھیں، کراچی میں تباہ ہونے والی فیکٹری کے مالک کے انکشافات

کراچی (نیوز ڈیسک)نيو کراچی صبا سينيما کے قريب دھماکے سے تباہ ہونے والی آئس فيکٹری کے مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ فیکٹری میں بم دھماکہ کیا گیا۔فيکٹری مالک معين قادری نے بيرون ملک سے ويڈيو بيان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فيکٹری ميں بم دھماکہ کيا گيا ہے کیونکہ گزشتہ 4 مہينے سے دھمکياں بھی دی جا رہی تھيں۔مالک کے مطابق فیکٹری میں کوئی بوائلر نہیں تھا البتہ ہمارے پاس امونیا گیس ہوتی ہے جس کی لیکیج ہوئی ہے اس لیے یہ تخریبی کارروئی لگتی ہے۔ دفتر میں یقیناً کسی نے بم رکھا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھمکیوں کی وجہ سے گزشتہ 4 ماہ سے میں لندن ہوں۔

فیکٹری میں دھماکہ کسی غفلت کی وجہ سے نہیں ہوا۔آئس فيکٹری ميں ہونے والے دھماکے کی وجوہات تاحال سامنے نہ آسکيں لیکن فيکٹری مالک نے اسے دہشت گردی قرار دے کر واقعہ کی تحقيقات کو ايک نيا رخ دے دیا۔پوليس نے دھماکے کی وجہ کمپريسر پھٹنا بتایا تھا جبکہ انڈسٹريل ايريا ايسوسی ايشن کے عہديدار عبدالرحمان نے دھماکے کو گيس ليکج قرار ديا تھا۔دھماکے سے متعلق بم ڈسپوزل اسکواڈ اور کيميائی ٹيسٹ کی رپورٹس نہيں آسکی ہيں جس سے حتمی طور پر ہی پتہ چل سکے گا کہ يہ دھماکہ آخر کس چيز کا تھا۔واضح رہے کہ فیکٹری میں دھماکے سے 10 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جبکہ دھماکے سے فیکٹری کی چھت مزدوروں پر گر گئی تھی۔واضح رہے کہ دو روز قبل نیو کراچی کے کولڈ اسٹوریج میں زور دار دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں تین فیکٹریاں تباہ ہو گئی تھیں، جس کے نتیجے میں دس افراد جاں بحق ہوئے تھے۔فیکٹری دھماکے کے بعد ریسکیو آپریشن کئی گھنٹوں تک جاری رہا تھا جس کے دوران ملبے تلے دبنے والے افراد کی لاشیں بھی نکالی گئیں تھیں۔ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکھٹے کیے جبکہ مٹی کو تجزیے کے لیے لیبارٹری بھی بھیجا۔ پولیس نے خدشہ ظاہر کیا کہ دھماکا امونیا گیس لیکج کی وجہ سے ہوا مگر فیکٹری مالکان نے پولیس کے بیان کی تردید کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں