نواز شریف کے دور حکومت میں وفد کے ہمراہ اسرائیل کا دورہ کیا تھا، سابق وفاقی وزیر مذہبی امور

لاہور (نیوز ڈیسک)سابق وزیر مذہبی امور کے مطابق نواز شریف کے دور حکومت میں وفد کے ہمراہ اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر مذہبی امور اور سرپرست اعلیٰ جمیعت علماء اسلام مولانا محمد اجمل قادری کی جانب سے تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ 90 کی دہائی میں نواز شریف کے دور حکومت میں اسرائیل کا دورہ کیا گیا تھا۔یہ ایک مطالعاتی دورہ تھا، جاننے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ اسرائیل کیساتھ تعلقات قائم کرنا ممکن ہے یا نہیں۔ اور اگر تعلقات قائم کیے جاتے ہیں تو یہ ہمارے لیے فائدہ

مند ہوں گے یا نقصان دہ۔ مولانا محمد اجمل قادری کا کہنا ہے کہ وہ وفد لے کر اسرائیل گئے تھے جہاں اعلیٰ اسرائیلی شخصیات سے ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ملاقاتوں کے دوران زیادہ تر بات چیت تجارتی امور ہوئی۔پاکستان کی ٹیکسٹائل اسرائیل میں کافی مشہور ہیں۔ جبکہ زراعت کے شعبہ میں اسرائیل کے تجربہ سے فائدہ اٹھانے کی بات ہوئی۔ ملاقاتوں کے دوران اسرائیلی حکام کی جانب سے تعلقات کے قیام کیلئے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی شرط نہ رکھی جائے۔ تاہم ہم نے واضح کیا کہ جب تک اسرائیل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی یقین دہانی نہیں کرواتا، تب تک تعلقات کے قیام کا معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔اسرائیل سے واپسی پر نواز شریف کو دورے کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ تب یہ بات ہوئی کہ جب بھارت جیسا ملک جس کے ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہیں، تو اس ملک کیساتھ ہمارے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم ہیں، تو پھر اسی طرح اسرائیل کیساتھ بھی سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسرائیل کیساتھ تعلقات کے حوالے سے نواز شریف کافی پرجوش بھی تھے۔ تاہم پھر تب پیدا ہونے والے سیاسی حالات کی وجہ سے اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں