اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف تجزیہ کار و اینکر پرسن کامران خان نے کہا ہے پاکستان پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ نہ استعفے دیں گے اور نہ ہی دھرنا نہ دیا جائے گا جب کہ ضمنی الیکشن کا بائیکاٹ بھی نہیں کریں گے ، صرف 27 دسمبر کا جلسہ ہو لینے دیں اس کے بعد آصف علی زرداری مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم بی بی کو دن میں تارے بھی گنوا دیں گے۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی نے ہاتھ کھڑے کردیے ہیں ان کی طرف سے سینیٹ الیکشن میں بھر پور شرکت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کامران خان کے مطابق اس کے ساتھ ہی پی ڈی ایم بیانیہ کا بھی دھڑن تختہ ہونے کو ہے ، سابق صدر آصف علی زرداری زیرک مہا ہوشیار سیاست دان ہیں ، صرف 27 دسمبر کا جلسہ ہو لینے دیں اس کے بعد وہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو دن میں تارے بھی گنوا دیں گے۔دوسری طرف پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی طرف سے جاری حکومت مخالف تحریک میں وزیراعظم عمران خان کے مستعفی ہونے کی نئی ڈیڈلائن سامنے آگئی ، مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ 31 جنوری کے بعد 23 مارچ یا 23اپریل کا الٹی میٹم ہوسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے دھرنے کے لیے جنوری کے پہلے یا دوسرے ہفتے کا موسم موزوں نہیں ہے ، اس لیے ایک تجویز یہ ہے کہ جب اسلام آباد پہنچ کر لانگ مارچ اختتام پذیر ہو تو وہاں جاکر حکومت کو ایک اور الٹی میٹم دیا جائے جو کہ 23 مارچ یا 23اپریل کا ہوسکتا ہے۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ اس وقت تک اگر حکومت مستعفی نہ ہوتو بعد میں پھر ایک نئے لانگ مارچ کی صورت میں جانے کا تجویز بھی زیر غور ہے کیوں کہ اس کے بعد 23 مارچ سے 23 اکتوبر تک کا موسم ایسا ہے کہ جس میں بڑے آرام سے دھرنا دیا جاسکتا ہے۔









