اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ دھرنے کیلئے جنوری اور فروری کا پہلا ہفتہ مناسب نہیں، حکومت کو 23 مارچ یا 23 اپریل تک کا الٹی میٹم دیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، اسے اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ ہماری جماعت میں بھی استعفوں سے متعلق دو رائے ہے۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں استعفوں کے حوالے سے فیصلہ ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ استعفے دیئے جائیں گے تو ضمنی نہیں عام انتخابات ہونے چاہیں۔ استعفوں کے بعد ضمنی الیکشن
کرانے ہیں تو استعفوں کا فائدہ نہیں ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے تمام اراکین کے استعفے جمع کر لیے ہیں۔ استعفوں کا آخری آپشن ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اسلام آباد جائیں گے تو پھر استعفوں کی نوبت نہیں آئے گی۔لیگی رہنما نے اہم بات بتاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں دھرنے کے حوالے سے دو رائے ہے۔ ایک تجویز یہ ہے کہ اسلام آباد میں حکومت کو ایک اور الٹی میٹم دیا جائے گا۔ حکومت گرانے تک ہماری تحریک جاری رہے گی۔ دریں اثناء پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک پر چنیوٹ سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا الیاس چنیوٹی نے استعفیٰ پارٹی قیادت کو جمع کروا دیا۔ رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ دھرنے کیلئے جنوری اور فروری کا پہلا ہفتہ مناسب نہیں، حکومت کو 23 مارچ یا 23 اپریل تک کا الٹی میٹم دیا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، اسے اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ ہماری جماعت میں بھی استعفوں سے متعلق دو رائے ہے۔ ایک سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ استعفے دیئے جائیں گے تو ضمنی نہیں عام انتخابات ہونے چاہئیں۔ استعفوں کے بعد ضمنی الیکشن کرانے ہیں تو استعفوں کا فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے تمام اراکین کے استعفے جمع کر لیے ہیں۔ استعفوں کا آخری آپشن ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اسلام آباد جائیں گے تو پھر استعفوں کی نوبت نہیں آئے گی۔









