اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق بیوروکریٹ اور سینئر صحافی اوریا مقبول جان نے بچوں کو پولیو ویکیسن پلانے کی مخالف کر دی۔ان کا کہنا ہے کہ پولیو ویکیسن پلانے کے لیے کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرنی چاہئیے۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی اوریا مقبول جان سے سوال کیا گیا کہ سنا ہے آپ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے حق میں نہیں ہیں۔کیا واقعی یہ سچ ہے؟۔جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پولیو ویکسین کے حق میں نہیں ہوں۔پولیو کے قطرے تو اب بھارت میں بھی بین ہو گئے ہیں۔کیونکہ انڈیا میں تحقیق سے ثابت کیا گیا ہے کہ 75 ہزار کیسز میں بچوں کو جو فالج ہوا ہے وہ پولیو کی وجہ سے ہے۔
پوری دنیا میں پولیو پر کافی تحفظات ہیں۔میں بھی پولیوں کے نہیں ویکسین کے خلاف ہوں۔پوری دنیا میں جنتی بھی ویکسینز ہیں یہ ایک مفروضے میں قائم ہیں۔اگر آپ بیمار ہیں اور میں بھی بیمار ہوں۔آپ ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتی ہیں اور میں حکیم کے پاس جانا چاہتا ہوں۔تو کیا میرے پاس آپشن نہیں ہونے چاہئیے کہ میں حکیم کے پاس جا سکوں۔کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میرا علاج کسی اور طریقے سے ہو۔یہ بندوق رکھ کر کیوں پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔مسئلہ سارا یہ ہے کہ آپشن ہونا چاہئیے کہ لوگوں نے علاج کیسے کروانا ہے زبردستی نہیں ہونی چاہئیے۔اوریا مقبول جان نے مزید کہا کہ دنیا کی ہر ویکسین بنیادی طور پر ایک مفروضے پر قائم ہے کہ ایک وائرس جیسا وائرس بدن میں داخل کیا جاتا ہے۔جس سے بدن کا امیون سسٹم ایکٹیو ہو جاتا ہے،وہ اس کو روک لیتا ہے اور بیماری کو ختم کردیتا ہے لیکن وہ تو باہر نہیں لگتا۔جو تحقیق ہی مفروضے پر ہو اس پر کیا بات کریں۔پولیو ویکسین پر شدت اور زبردستی نہیں ہونی چاہئیے۔









