جے یو آئی کے بعد پیپلزپارٹی کے سینئررہنما بھی پی ڈی ایم کیخلاف بول پڑے

کراچی (نیوز ڈیسک) جے یو آئی کے بعد پی پی رہنما بھی پی ڈی ایم کے خلاف بیان دینے لگے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیر رہنما قمر زمان کائرہ نے دبے لفظوں میں پی ڈی ایم دھرنے کی مخالفت کر دی۔تفصیلات کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کا بھی پی ڈی ایم مخالف بیانیہ سامنے آ گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم جماعتوں میں بہت سارے موضوعات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔خاص طور پیپلز پارٹی کو کافی باتوں پر اعتراض ہے جس میں استعفے دینا اور دھرنا دینا شامل ہے۔اسی پی پی رہنما قمر کا کہنا ہے کہ دھرنا لازمی نہیں، پی ڈی ایم دھرنے کا

فیصلہ کرتی ہے تو پیپلز پارٹی کو سوچنا پڑے گا۔قمر زمان کائرہ کے بیان سے واضح ہے کہ ان کی جماعت کسی صورت بھی دھرنا دینے کی حامی نہیں ہے۔اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے بھی استعفوں کی مخالفت کی تھی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے استعفے دیے توسینیٹ مکمل عمران خان کے پاس چلا جائے گا، حکومت اتنی آسانی سے نہیں گرتی، اگر 400نشستیں خالی ہوئیں تو ان پر منی جنرل الیکشن ہوگا، جس کو پی ڈی ایم کیلئے بڑا رسک سمجھتا ہوں۔انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے ضمنی الیکشن پر 45 دن لگتے ہیں، اگر نشستیں خالی ہوگئیں، الیکشن عدم استحکام ضرور پیدا کرتے ہیں لیکن اس دوران اگر ان کا سینیٹ پر مکمل کنٹرول حاصل ہوگیا تو ان کو پورے نظام ان کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ سینیٹ کی بہت اہمیت ہے، 1988ء کی محترمہ بے نظیر کی حکومت میں سینیٹ میں صرف تین ارکان تھے،باقی سارے جنرل ضیاء اور غلام اسحاق کے بیٹھے ہوئے تھے۔لیکن اس کے باوجود ہم نے حکومت چلائی، جب یہ ہمیں ہر طرح سے نکالنے میں ناکام ہوگئے تو ہمیں 58ٹوبی کے تحت فارغ کیا۔ اس لیے حکومت اتنی آسانی سے نہیں گرتی۔پی ڈی ایم کے جلسے اچھے ہوگئے ہیں، لیکن حکومت تو خود ناکام ہے، وہ خود گرتی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں