مولانا غفور حیدری نے مولاناشیرانی کے بیانات کا الزام اداروں پر لگا دیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا ہے کہ مولانا محمد خان شیرانی سے حکومت اور حکومتی اداروں کی مدد سے بیان دلوایا گیا۔ان کے رابطے زیادہ مضبوط لگتے ہیں۔اسرائیل کے بارے میں مولانا خان شیرانی کی ذاتی رائے ہے۔اسرائیل کے بارے میں جے یو آئی کی پالیسی دو ٹوک ہے۔جو جے یو آئی کے منشور میں طے ہے انہوں نے کہا کہ قوم اسرائیل کوتسلیم کر نے کی اجازت کسی کو نہیں دے گی جو لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے لابنگ کر رہے ہیں وہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بیانات پڑھ لیں ،پاکستان کی پالیسی اسرائیل

کے حوالے سے اول روز سے طے ہے ۔مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا کہ مولانا محمد خان شیرانی جے یوآئی کے کسی عہدے پر فائز نہیں،صرف وہ ایک ابتدائی رکن ہے۔ان کے بیان کو جمعیت علماء اسلام کی پالیسی نہ سمجھا جائے۔مولا نا حیدری نے کہاکہ 24دسمبر کو جے یو آئی نے مجلس عاملہ اور صوبائی امراء ونظما کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اس حوالے سے بھی غور کیا جا ئے گا انہوں نے واضح کیا کہ اجلاس پہلے سے طے شدہ ہے لیکن مولانا محمد شیرانی کے بیان کو اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا جا ئے گا۔دوسری جانب پارٹی رہنماوں کے الزامات پر مولانا فضل الرحمان کا رد عمل آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا انتخاب بلا مقابلہ ہوا ، پورے انتخابی عمل میں مولانا شیرانی خود بھی شریک رہے ، انہوں نے سلیکٹیڈ کا لفظ ہمارے عمران خان کے خلاف استعمال کیے جانے کی وجہ سے لیا اپنی ذات کےحوالے سے تو میں ہمیشہ ایسی باتیں برداشت کرتا رہا ہوں ، مولانا شیرانی میرے بزرگ ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اگر تعلق میری ذات سے ہے تو کوئی جواب نہیں دیتا لیکن اگر جماعت کے بارے میں بات کی جائے تب بھی سمجھ لیا جائے گا کہ اصلاح کیلئے ایسی بات کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں