قومی اسمبلی تحلیل کروانے کیلئے 150 استعفے ناکافی، اعتزاز احسن

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اعتزاز احسن کے مطابق قومی اسمبلی تحلیل کروانے کیلئے 150 استعفے ناکافی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق معروف قانون دان اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی سے مستعفی ہو بھی جائیں تو اس سے حکومت ختم نہیں ہوگی۔اعتزاز احسن کا بتانا ہے کہ حکومت کے خاتمے کیلئے قانونی طور پر کم سے کم 259 اراکین اسمبلی کا مستعفی ہونا ضروری ہے۔ اسمبلی 84 اراکین کی موجودگی سے بھی چل سکتی ہے۔ جب تک قومی اسمبلی کے اراکین کی

تعداد 83 نہیں رہ جاتی، تب تک اسمبلی تحلیل نہیں ہوگی۔ اس لیے اپوزیشن کے تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہو بھی جائیں تو اس صورت میں ضمنی الیکشن کروائے جا سکتے ہیں۔اعتزاز احسن کا مزید کہنا ہے کہ حکومتیں جلسے جلوس سے نہیں جاتیں صرف تیسری طاقت ہی اُنہیں گراتی ہے لیکن ن لیگ نے تو تیسری طاقت کے ساتھ بھی ٹکر لی ہے کیوں کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز ملکی سیاست کو تصادم کی طرف لے کر جارہی ہیں لیکن ان کا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آرہا ، اپوزیشن جماعتوں کو بھی سوچنا چاہیئے کہ نوازشريف کے بیانیے میں پی ڈی ایم کامفاد نہیں ہے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ استعفے دینے کا ایٹم بم چلانے کا فیصلہ مسلم لیگ ن اکیلے اپنے طور پر کیسے کر سکتی ہے؟ جس بھی سیاسی جماعت کو زیادہ شوق ہے تو وہ اپنے استعفے جمع کروائے لیکن میری ذاتی رائے میں پیپلزپارٹی کو استعفوں کی حد تک نہیں جانا چاہیئے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نے کہا کہ مریم نواز تو نوازشریف سے بھی دو قدم آگے نکل گئی ہیں مگرانہيں موقع ملا تو وہ باہر چلی جائیں گی اگرایساہوا تو یہ ان کے لیے بڑا ریلیف ہوگا اوروالد کےساتھ رہیں گی۔خیال رہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اپوزیشن کی بینچوں سے مستعفی ہونے کی حکمت عملی تیار کرلی جس کے لیے سربراہ نے اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے اراکین سے 31 دسمبر تک استعفی مانگ لیے۔پی ڈی ایم اتحاد کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے عوام کو آگاہ کیا۔

انہوں ںے کہا کہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے اراکین کو ہدایت کردی ہے کہ وہ 31 دسمبر تک اپنے استعفی جمع کرادیں، سندھ سمیت تمام اسمبلیوں کے استعفے جمع کروائے جائیں گے۔فضل الرحمان نے کہا کہ اجلاس میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، شٹر ڈاؤن ہڑتال، احتجاجی مظاہروں، ملک کے مختلف حصوں میں جلسوں کا شیڈول طے کیا جائے گا اور ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا جائے گا کہ اسلام آباد میں لانگ مارچ کب کیا جائے؟ کل اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں پہیہ جام ہڑتال، ریلیوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ

مستقل مزاجی کے ساتھ ہم اپنے معاملات کو آگے بڑھارہے ہیں، عوام کو مایوس نہیں کریں گے، عوام کا اعتماد خراب نہیں کریں گے، لاہور کا جلسہ تاریخی ہوگا اور یہ جلسہ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔گرفتاریاں دینے کے سوال پر انہوں ںے کہا کہ ہم نے سوچا بھی نہیں کہ گرفتاری کیا چیز ہے؟ حکومت کی کرسی کی چولیں ہل چکی ہیں بس ایک دھکا دینے کی ضرورت ہے، استعفی دیے تو تھوک کر نہیں چاٹیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں