پاکستانیوں کیلئے ویزہ پر پابندی کی خبریں، حقیقت سامنے آگئی

دُبئی (نیوز ڈیسک)وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ میری یو اے ای کے لیبر منسٹر سے بات ہوئی ہے انہوں نے مجھ سے گلہ کیا ہے کہ پاکستان اور امارات کے اتنے اچھے تعلقات ہیں تو پھر آپ کا میڈیا اماراتی حکومت کی جانب سے پاکستانیوں پر ویزہ پابندی کی خبریں کیوں چلا رہا ہے۔جس پر مجھے ان سے معافی مانگنی پڑی ہے۔ میں نے پہلے بھی اپنے ٹویٹر کے ذریعے پاکستانیوں پر ویزہ پابندی کی تردید کی تھی جو کچھ اینکروں کو پسند نہیں آئی۔ امارات کی جانب سے پاکستانیوں پر ویزے کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہے۔

دراصل کورونا کی وبا نے امارات کو بھی بُری طرح متاثر کیا ہے۔ پاکستان یو اے ای کا قریبی ملک ہے، ہمیں ان کے مسئلے کو سمجھنا چاہیے۔امارات والے کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس پہلے ہی بھارت، فلپائن سمیت کئی ممالک سے بہت سے ویزہ ہولڈرز اکٹھے ہو گئے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ پہلے ان پانچ چھ لوگوں کی نوکریاں کا مسئلہ حل ہو جائے یا ان کی امارات میں گنتی کم ہو جائے، تو پھر مزید لیبر کو بُلایا جائے گا یا نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ البتہ اگر کسی کمپنی نے آپ کو نوکری دے رکھی ہے تو اس کمپنی کی جانب سے لیٹر بھیجے جانے پر آپ کا ویزہ لگ رہا ہے۔وہاں پر معاشی سرگرمیاں کچھ سُست ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے وہ کم لیبر لے رہے ہیں۔ یہ ان کا فیصلہ ہے جسے ہمیں سمجھنا چاہیے اور اس فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔ ہم نے پچھلے دو سال میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی یو اے ای بھجوائے ہیں۔ ہم نے نومبر میں بھی 16سو افراد امارات بھجوائے ہیں۔ تو پھر پابندی کہاں سے ہو گئی۔اب امارات یہ تو کر نہیں سکتا کہ وہاں جو لوگ پہلے سے موجود ہیں، انہیں واپس بھجوا کر ان کی جگہ نئے لوگ منگوائے جائیں۔جو افراد امارات میں مقیم ہیں، اور ان کی نوکریاں کورونا کی وجہ سے ختم ہو گئیں، ان کو اماراتی نیشنل ڈیٹا بیس میں رجسٹرکیا جا رہا ہے۔ اماراتی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہاں پر جن 12 لاکھ لوگوں نے خود کو رجسٹر کروا رکھا ہے، ان میں سے کم از کم چھ لاکھ لوگوں کو نوکریاں مل جائیں تو پھردیگر ممالک سے مزید لوگوں کو امارات آنے کی اجازت دی جائے گی۔ ہمیں ان حالات میں امارات کی مدد کرنی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں