بالغ ہوں، شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دی جائے، 13 سالہ لڑکی کا بیان سن کر والدہ بےہوش ہو گئی

لاہور( نیوز ڈیسک )عدالت میں 13 سالہ لڑکی کی پسند کی شادی کے کیس کی سماعت ہوئی۔ایڈیشنل سیشن جج نذیر احمد نے پسند کی شادی کے کیس پر سماعت کی۔لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ اپنی مرضی سے پسند کی شادی کی۔خاوند کے ساتھ جانے کی اجازت دی جائے۔میں 18 سال کی ہو چکی ہوں، بالغ ہوں ، جس پر عدالت نے ریمارکس دئے کہ تم 18 سال کی نہیں لگتی ہو۔لڑکی کا بیان سن کر ماں کمرہ عدالت میں بےہوش ہو گئی۔ساجدہ بی بی نے ہی 13 سالہ بیٹی ماریہ کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی۔درخواستگزار نے موقف اختیار کیا کہ بھائی کے بیٹے سلمان نے میری بیٹی کو اغوا کر رکھا ہے۔

عدالت نے اسے دار الامان بھجوا دیا۔عدالت نے لڑکی کا میڈیکل کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی کی عمر کا تعین بھی کا جائے۔اس سے قبل پنجاب حکومت کی جانب سے چائلڈ میرج ایکٹ 1929 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا ، ترامیمی سمری تیار کر لی گئی تھی جس کے مطابق 18 سال سے کم کمر لڑکا اور لڑکی بچے تصور کئے جائیں گے ۔محکمہ قانون نے 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی لگانے کیلئے چائلڈ ایکٹ 1929 میں ترمیم کی اجاز ت دے دی ہے۔ یہاں بات بھی قابل غور رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے چاروں صوبوں کو چائلڈ ایکٹ بل پر ترامیم کرنے کی ہدایت کی گئیں تھی، جس کے بعد پنجاب حکومت حرکت میں آ گئی۔ واضح رہے چائلڈ ایکٹ 1929 کے مطابق کوئی بھی لڑکا لڑکی 16 سال کی عمر میں شادی کر سکتے تھے۔تاہم اب اس مدت کو 18 سال کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزارت قانون کی جانب سے تیار کی گئی سمری بہت جلد کابینہ میں پیش کی جائے گی۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو چائلڈ رائٹس کے تحت قانون حاصل ہونگے۔ 18 سال سے کم عمر بچے بچیوں کی شادی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے اس سے قبل لڑکیوں کی شادی کی عمر 16 کی بجائے 18 سال مقرر کرنے اور ڈپریشن کے حوالے سے سرکاری سطح پر آگاہی مہم چلانے کے مطالبے پر مبنی 2قرار دادیں پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئیں تھی ۔تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی مسرت جمشید چیمہ کی جانب سے جمع کرائی گئی قرار داد میں کہا گیا تھا کہ کم

عمری کی شادی لڑکیوں کے حقوق کا اہم ترین معاملہ ہے، کم عمری کی شادی سے معاشرے میں بے شمار مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ کم عمری کی شادی سے لڑکیوں کی جسمانی، جذباتی اور تولیدی صحت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ،کم عمری کی شادی کے نتیجے میں لڑکیاں اپنے بہت سے بنیادی حقوق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے ۔ لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 16سال کو بڑھا کر 18سال مقرر کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں