مفتی عزیز الرحمن کے خلاف سخت ایکشن ، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بڑی خبر سامنے آگئی

لاہور(نیوز ڈیسک)مفتی عزیز الرحمن کی وائرل ویڈیو پر جے یو آئی کا بھی موقف سامنے آ گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سوشل میڈیا پر مفتی عزیز الرحمن کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہیں طالب علم کے ساتھ نازیبا عمل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔واقعے کے بعد انہیں مدرسے کی جانب سے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا،مفتی عزیز الرحمن جے یو آئی کے بھی رہنما ہیں۔جے یو آئی کی جانب سے بھی وائرل ویڈیو پر ردعمل دیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق جے یو آئی لاہور کے سیکرٹری جنرل نے بھی ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو کے بعد جے یو آئی نے بھی مفتی عزیز کی

رکنیت معطل کر دی ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک ان کو سبکدوش کر دیا گیا ہے۔جبکہ کہ عمر رسیدہ اُستاد کی طالبعلم سے زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے پر چیئرمین متحدہ علماء بورڈ اور وزیراعظم عمران خان کے نمائندہ خصوصی مولانا طاہر اشرفی نے بھی رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کے انفرادی فعل کو ادارے سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لاہور واقعہ کی فرانزک تحقیقات کروائی جائیں اور جُرم ثابت ہونے پر مجرم کو الٹا لٹکا دیا جائے۔ مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ وفاق المدارس کو واقعہ کا علم ہونے پر نوٹس لینا چاہئیے تھا۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں جمیعت علمائے اسلام لاہور کے نائب امیر مفتی عزیز الرحمان کو مدرسے کے طالب علم اور اپنے شاگرد صابر شاہ کے ساتھ نازیبا عمل کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ویڈیو میں موجود طالبعلم نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں اُس کا کہنا تھا کہ مجھے بلیک میل کیا جا رہا ہے اور جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی جا رہی ہے۔ میں ایک جگہ پر چھپا ہوا ہوں، صابر نامی نوجوان نے کہا کہ میں نے اپنے لیے آواز اٹھائی لیکن نہ تو کسی نے میری بات سنی اور نہ ہی مجھے انصاف ملا، میں نے انصاف کی عدم فراہمی پر اپنی جان لینے کا فیصلہ کیا ہے۔اگر انہوں نے میری جان لینی ہی ہے تو اس سے اچھا ہے کہ میں خودکشی کر لوں۔ اس تمام صورتحال میں مدرسے کے ناظم خلیل اللہ ابراہیم کی جانب سے ویڈیو پیغام جاری کیا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ صابر نامی لڑکا ان کے پاس کچھ عرصہ پہلے آیا اور مفتی

عزیز الرحمان کے خلاف شکایت کی تھی لیکن مجھے لڑکے کی بات پر یقین نہیں تھا تو کچھ عرصہ بعد وہ ان کے پاس ویڈیو بھی لے آیا۔جب واقعہ کی تحقیقات کی گئی تو مفتی عزیز الرحمان کو مدرسے سے ہٹا دیا گیا اور اب مفتی کا جامعہ منظور الاسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد مفتی عزیز الرحمن کو برطرف کردیا گیا ہے۔ بعد ازاں مفتی عزیز الرحمان نے بھی ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ جس میں انہوں نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو منصوبہ بندی کے تحت بنائی گئی ہے۔ مدرسے کے ناظم نے مجھے عہدے سے ہٹانے کے لیے نوجوان کو میرے خلاف استعمال کیا، مجھے نشہ آور چائے پلائی گئی جس کے بعد اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو مین دیکھا جا سکتا ہے میرا جسم حرکت نہیں کررہا جبکہ ویڈیو میں واضح ہے کہ نوجوان پر کوئی جبر نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں