میگا کرپشن کیس، بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو عبرتنا ک سزا سنادی گئی

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) کوئٹہ کی احتساب عدالت نے بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو 10سال قید کی سزا سنادی ہے۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کی احتساب عدالت نے بلوچستان میگا کرپشن کیس کا فیصلہ سنا دیا۔عدالت کی جانب سے مشتاق رئیسانی کو دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ مشتاق رئیسانی کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔احتساب عدالت کوئٹہ نے میگا کرپشن کیس میں سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کو دو سال دو ماہ قید کی سنائی ہے جبکہ سابق سیکرٹری بلدیات عبدالباسط اور سابق سیکرٹری لوکل کونسل فیصل جمال کو بری کردیا ہے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا

ہے کہ میر خالد لانگو کی سزا ان کے ٹرائل کے دوران گرفتاری کے وقت سے شروع ہوگی۔واضح رہے کہ نیب نے سابق مشیر خزانہ خالد لانگو اور سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو 2016 میں میگا کرپشن کیس میں گرفتار کیا تھا بعد میں ان کی ضمانت منظور ہوئی، سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی نے نیب کی تفتیش کے دوران کرپشن کے حاصل شدہ رقم کا اعتراف کیا تھا اور کرپشن میں ملوث مزید 11 افراد کے نام بتا ئے ۔سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر سے 70کروڑ روپے کی ملکی و غیر ملکی کرنسی اور 20کلو گرام سونا برآمد ہونے پر انہیں گرفتار کیا گیا تھا، احتساب عدالت کی طرف سے مشتاق رئیسانی کا 14روزہ جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا۔ نیب ذرائع کے مطابق مشتاق رئیسانی نے کرپشن سے حاصل کردہ رقم کا اعتراف کرتے ہوئے کرپشن میں مدد کرنے والے گیارہ افسران کے نام بھی بتا دیئے ہیں، جن میں لوکل گورنمنٹ کے کئی ملازمین اور دیگر افراد شامل ہیں۔ نیب حکام نے ان 11 افراد ٹرانزیکشن اور دیگر ریکارڈ اکٹھا کرنا شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اگر مشتاق رئیسانی کی گرفتاری میں ایک دن کی تاخیر ہو جاتی تو برآمد کی گئی رقم ہنڈی کے ذریعے باہر چلی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں