ڈاکٹر یاسمین راشد کو سول ایوارڈ سے نوازنے کا مطالبہ کردیا گیا

لاہور (نیوز ڈیسک)پہاڑ جیسا حوصلہ ہونے کی دعا ہمیشہ دی جاتی ہے لیکن اگر کسی کو دیکھنا ہو کہ پہاڑ جتنا حوصلہ کتنا ہوتا ہے تو وہ وفاقی وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد کو دیکھ لیں جو اپنی طبیعت سخت خراب ہونے کے باوجود بھی دن رات اپنے کام میں جتی ہوئی ہیں اور کورونا جیسی وبا میں بھی اپنی قوم کو محفوظ بنانے اور ہیلتھ سسٹم کو چلانے کے لیے ایکٹو ہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد سے متعلق بات کرتے ہوئے نجی ٹی چینل کے اینکر عمران خان نے اپنے پروگرام میں شریک وفاقی وزیراسد عمر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے

باوجود ڈاکٹر یاسمین راشد ایکٹو ہیں اوروہ دن رات محنت کررہی ہیں اس پر تو انہیں حکومت پاکستان کو اعلیٰ سول ایوارڈ دینا چاہیے اور ان کی خدمات کوتسلیم کرتے ہوئے اعزاز و اکرام سے نوازنا چاہیے کہ ان کے حوصلے کتنے بلند ہیں اور وہ کس قدر محنت کررہی ہیں۔ اس پر اسد عمر نے جواب دیا کہ آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔آپ یقین کریں میں اپنی فیملی اور بچوں کو بھی ڈاکٹر یاسمین کی زندہ مثال کے قصے سناتا ہوں کہ دیکھیں محنت کس طرح سے کرنی چاہیے۔اسد عمر نے کہا کہ آپ یقین نہیں کریں گے گزشتہ روز انہوں نے دن بھر کام کیااور رات کو گیارہ بجے میرے ساتھ آدھا پونہ گھنٹا فون پر بات کی اور اپنے ہیلتھ سسٹم کی بہتری کے لیے لڑائی کی کہ انہیں کچھ وینٹی لیٹرز چاہیے تھے اور آکسیجن کے علاوہ دیگر ایسا سامان چاہیے تھا جو کہ بہت ضروری تھا۔تو ڈاکٹر یاسمین راشد نے کورونا صورتحال پر نہ صرف میرے ساتھ تازہ ترین صورتحال شیئر کی بلکہ ہیلتھ سسٹم کی اپ گریڈیشن سے متعلق بھی سفارشات کیں اور پنجاب کے لیے کافی سامان دینے کی اپیل کی۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد انتہائی محنتی خاتون ہیں اور ان کے حوصلے ہمیں بھی ہمت دیتے ہیں کہ خاتون ہو کر اور اس عمر میں سیریس قسم کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی وہ ایکٹو ہیں تو ہمیں بھی محنت کرنی چاہیے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر یاسمین راشد واقعی ایوارڈ کی حقدار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں