تحریک لبیک فرانسیسی سفیر نکالنے کے موقف سے پیچھے ہٹ گئی، تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان فرانسیسی سفیر نکالنے کے موقف سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک لبیک کا سٹیٹس وہی ہے جو کالعدم تنظیم کا ہوتا ہے، یہ چار سال کا نہیں عشروں کا مسئلہ ہے۔ہم نے اپنے اداروں کو ایک ایک کرکے تباہ کیا ہے لیکن اب ضرورت ہے کہ ریاستی ادارے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔اندرونی سکیورٹی میکنزم کو موثر بنانے کے لیے اس پر نظر ثانی شروع کی جا رہی ہے۔ہم مذاکرات شروع کرتے ہیں پھر پیچھے جاتے ہیں ریاستی ایسے نہیں چل سکتی۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ آپ سے بہتر مسلمان ہے، حکومتیں طویل عرصے سے اپنی رٹ خود ہی ختم کرتی رہی ہیں۔تحریک لبیک اس معاملے میں سیاسی طور پر مضبوط نہیں ہوئی ،پرائیویٹ ممبر قرارداد لے کر آئے ہیں تاکہ سفیر کو نکالنے کے حوالے سے بحث کی جا سکے۔فواد چودھری نے مزید کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کا کہنا تھا فرانسیسی سفیر کو ضرور نکالا جائے اس بات پر معاملہ خراب ہوا ٹی ایل پی بالآخر فرانس کے سفیر کو لازم نکالنے کے موقف سے پیچھے ہٹی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں مختلف گروپ اپنی رائے رکھ سکتے ہیں لیکن اسے جمہوریت نہیں کہا جا سکتا،خیال رہے کہ ) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کو بریفنگ دی گئی ہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کالعدم اور پابندی برقرار رہے گی۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیرداخلہ شیخ رشید اوروزیرمذہبی امور نور الحق قادری نے ارکان کو تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات پربریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ تحریک لبیک پرپابندی ختم کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، ٹی ایل پی کالعدم اور پابندی برقرار رہے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹی ایل پی کارکنان پر قتل کے مقدمات واپس نہیں لیے جارہے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھاکہ ناموس رسالت پر پوری قوم متحد اور یک زبان ہے، ٹی ایل پی کا مقصد ٹھیک ہے لیکن طریقہ کار درست نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مضبوط کیس پیش کرنے کیلئے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں