وزیر داخلہ شیخ رشید پر حملہ کرنے کیلئے پستول رکھا ہوا تھا،یتیم خانہ چوک سے گرفتار مسلح شخص کا دوران تفتیش انکشاف

لاہور (نیوز ڈیسک) یتیم خانہ چوک سے گرفتار مسلح شخص نے تفتیش کے دوران تہلکہ خیز انکشافات کر دئے۔پولیس کے مطابق یتیم خانہ چوک سے گرفتار شخص نے تفتیش میں بتایا کہ وہ گھر سے لانگ مارچ کی تیاری کر کے آیا تھا۔ وزیر داخلہ شیخ رشید پر حملہ کرنے کے لیے پستول رکھا ہوا تھا۔پولیس طرح کا کہنا ہے کہ ملزم تحریک لبیک کا کارکن ہے، کالعدم تحریک لبیک سے کیے گئے وعدے پورے نہ ہونے پر وہ غصے میں تھا۔ملزم کے خلاف ناجائز اسلحہ رکھنے کا مقدمہ نواں کوٹ میں درج کر لیا گیا ہے۔قبل ازیں ۔ لاہورکے علاقے یتیم خانہ چوک میں کشیدہ صورتحال سے متعلق پنجاب

پولیس کا موقف سامنے آیا، ترجمان پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ صبح صبح ایک شر پسند گروہ نے تھانہ نواں کوٹ پر حملہ کر دیا جہاں رینجرز اور پولیس کو پھنسا کر انہوں نے ایک ڈی ایس پی کو اغوا کر لیا اور انہیں کالعدم تنظیم کے مرکز لے جایا گیا ، اس کے علاوہ شدت پسندوں نے تقریباً 50 ہزار لٹر پٹرول سے بھرا ایک آئل ٹینکر بھی اپنے مرکز پہنچایا جہاں سے شر پسندوں نے رینجرز اور پولیس پر پٹرول بم پھینکے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ پنجاب پولیس نے شر پسندوں کو پیچھے دھکیلنے اور پولیس اسٹیشن کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے ایکشن لیا یہ سب کچھ سیلف ڈیفنس میں کیا گیا بصورت دیگر مدرسہ یا مسجد کے خلاف کسی بھی قسم کے آپریشن کا کوئی منصوبہ نہیں تھا ، جو کچھ بھی کیا گیا یہ اپنے دفاع اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا گیا۔اسی طرح سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ لاہور کے یتیم خانہ چوک پر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔ طاقت کے اندھے استعمال سے کوئی مسئلہ حل ہوا ہے نہ ہوگا۔ تحریک لبیک کے ذمہ داروں سے بات چیت کر کے آگے بڑھا جائے۔ علمائے کرام کا تعاون حاصل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحیم ڈاکٹر سرفراز اعوان مولانا عبدالخبیر آزاد اور مولانا راغب نعیمی سے حکومت مشاورت کرے۔ مولانا طاہر اشرفی بھی تشدد اور خونریزی کو رکوانے کے لئے متحرک ہوں۔ وقت ضائع نہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں